ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر شدید دباؤ کا شکار

ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جس سے سپلائی کے مسائل بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے جنگ کے دوران بڑی مقدار میں میزائل استعمال کیے۔
مزید برآں، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ میں مسلسل فوجی کارروائیوں نے اہم ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم کر دیے ہیں۔ پینٹاگون سے منسلک ذرائع نے بھی اس کمی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے مستقبل میں ممکنہ جنگوں پر تشویش ظاہر کی۔
اس کے علاوہ، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق کئی اہم میزائل سسٹمز کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔ اسی طرح THAAD میزائلوں کا نصف سے زیادہ استعمال ہوا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران ڈیل پر زور، جنگ بندی توسیع مسترد
مزید یہ کہ پینٹاگون نے پیداوار بڑھانے کے لیے نئے معاہدے کیے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق نئے میزائل سسٹمز کی فراہمی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ اس دوران ذخائر کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
آخر میں، ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو امریکہ کے دفاعی ذخائر طویل مدت کے لیے دباؤ میں رہیں گے۔ چین جیسے حریفوں کے مقابلے میں بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہونے سے عالمی دفاعی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔















